ہر پاکستانی کی خبر

اگر بہتر پرفارمنس نہ دے سکا تو گورنر کا عہدہ چھوڑ دونگا: گورنر سندھ محمد کامران خان ٹیسوری

Image Source - Google | Image By
Faysal Aziz Khan Podcast

گورنر سندھ محمد کامران خان ٹیسوری

  • میری خواہش  ہے کہ اللہ مجھے ایک سچا عاشق رسول بنائیں
  • جب تک اس منصب  پر فائز ہوں اپنا ذاتی یا گھر کا کوئی کام نہیں کرونگا
  • سابق وزیر داخلہ سندھ  ذوالفقار مرزا نے مجھ پر4 جھوٹے کیسز بنائے
  • محترمہ بینظیر بھٹو نے مجھے مکہ میں کھڑے ہوکر اپنا بھائی بنایا
  • اگر بہتر پرفارمنس نہ دے سکا تو گورنر کا عہدہ چھوڑ دونگا

انٹرویو

اسلام و علیکم ! میں ہوں فیصل عزیز خان ،پاکستان میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں جنھوں نے بات ساری محنت کی اور اعلی مقا م حا صل کیا ،اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جنھوں نے اعلی مقام حاصل کر لیا لیکن لوگوں کو شک وشبہات ہیں اعلی مقام کیسے حاصل کر لیا ۔ ان کی محنت لوگوں کو نظر نہیں آتی ،لوگوں تک نہیں پہنچتی ، محترم گورنر  سندھ ہیں ، محمد کامران  خان ٹیسوری صاحب ، میرے ساتھ اس وقت موجود ہیں

اسلام و علیکم کامران بھائی

جی و علیکم سلام  فیصل بھائی

فیصل عزیز: میں آپ سے پورا بچپن سے لے کر پڑھائی کی باتیں ، جوانی کی باتیں کرونگا ، لیکن سب سے پہلے میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کائنات کا سب سے بڑا دن بارہ ربیع الاول ، اگر 12 ربیع الاول نہیں ہے تو کائنات میں کچھ نہیں ہے ، رسول اللہ کی پیدائش کا دن ، عید میلاد النبی کا دن ،لیکن میں یہ ماننا ہے کہ آپ کوئی بڑا کام کرنے کیلئےآئے ہیں ، اللہ تعالی کے حبیب  کے پیدائش کے دن جس دن ساری دنیا کے اندر مسلمان عید منا رہے ہیں اس دن ( اتوار) کے دن آپ کا نوٹیفیکیشن  نکلتا ہے  اور آپ گورنر مقرر ہو جاتے ہیں

کامران ٹیسوری: بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

سب سے پہلے فیصل بھائی آپ کا شکریہ، جس الفاظ کے ساتھ آپ نے میرا تعارف کروایا میں اس قابل تو نہیں ہو ں ، لیکن میں پھر بھی آپ کا تہہ دل سے شکریہ اداکرتا   ہوں

آپ نے یہ بات کی جس دن یہ نوٹیفیکیشن آیا ہے تو میں یہ بات سمجھتا  ہوں کہ انسان کے دل میں  بہت ساری خواہشات ہوتی ہیں اور ہر وقت اللہ سے دعا کرتا ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے دل میں ہمیشہ سے یہ اک بات تھی  کہ اللہ مجھے ایک سچا عاشق رسول بنائیں ، بلکہ میں کیا کہوں ، ایک  چھوٹا سا واقعہ آپ کو بتاتا ہوں۔۔ مسجد نبوی  پہلے رات  ہوں بند  ہو جاتی تھی  تقریبا فجر یا تہجد کے وقت کھلتی تھی اور نماز عشا کے بعد بند ہو جاتی تھی ،تو ایک دن ،میں اپنے ہوٹل میں  ٹہر ہوا تھا  اور میں کوشش کرتا تھا کہ مجھے کمرہ وہ ملے جس سے حرم نظر آجائے  تو میری آنکھ لگ گئی تھی  اچانک ، کب آنکھ کھلی تو دیکھا  کہ دروازہ کھل رہا ہے تو کچھ لوگ اندر جا رہے    ہیںاور رش کوئی نہیں ہے  تو خوشی کی انتہا کوئی نہیں رہی کہ اتنے کم رش میں دروازہ کھلا ہے تو میں نے اپنے آپ کو جلدی تیار کیا ، وضوں کر کے جانماز  یکر باگا ،اور جب میں پہنچا تو اس وقت بھی کچھ لوگ ترکیہ سے آئے ہوئے تھے لال ٹوپیاں لگائی ہوئی تھیں،اور وہاں ایک چگتا کھڑا تھا وہ لوگوںکو اندر چھوڑ رہا رتھا

تو جیسے ہی میں وہاں پہنچا تو اس نے مجھ سے تعارف مانگا ،تو میں نے کہا میں ایک پاکستانی ہوں ،تواس نے کہا کہ ایک مخصوص ترکیہ کے ڈیلیگیشن ہیں وہ اندر چھوڑے گئے ہیں اور پھر دروازہ بند ہو گیا

تو اس دروازے کے باہر ہی میں نے اپنی جانماز لگا کر زار و قطار رو کر میں نے اللہ سے دعا کی کوئی دن ایسا بھی ہوں کہ میں بھی اسی طرح اسی دروازے سے اند ر چلا جائو، تو کچھ اللہ سے حضور سے یہاں بیٹھ کر دعا مانگ سکوں، اپنے لیے اور اپنے ملک کیلئے، اپ یقین کریں فیصل بھائی ابھی دو مہینے نہیں گزرے کچھ ایسا ماحول بنا ایسی چیزیں  ہوئی ایک تو مجھے غسل کعبہ خانہ کعبہ میں اندر جانے کا موقع مل گیا ، شرف حاصل ہو گیا ۔اور وہی ایسے کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی اور جب میں نے یہ واقعہ بتایا تو انھوں نے مسکرا کر کہا آپ کب جارہے ہیں مدینہ تو میں نے کہا میری کل روانگی ہے مکہ شریف سے تو پھر اللہ تعالی نے وہی چیز وہی ٹائمننگ پھر مجھے بتایا گیا  کہ رات 11 بجے آپ دروازے پر آجائیں پھر آپ اور لوگ ساتھ اندر جائینگے تو یہ سعادت وہاں سے ملی تو میں انکی پیر کی دھول اور مٹی بھی نہیں ہوں ،لیکن کہیں نہ کہیں ایک کنیکشن  جو ہے نہ عاشق رسول  ہونے کا کوشش کرنا

 

فیصل عزیز: آپ کے گھرپر شیخ احمد علی نوری روضہ رسول کے متولی، واحد انسان  ہیں، وہ آپ کے گھر تشریف لائے تھے ۔

کامران ٹیسوری: کہ اللہ تعالی نے مجھے یہ بھی سعادت دی کہ وہ آئے اور گھر پر مغرب  کی نماز بھی پڑھائی ، اور اللہ تعالی نے مجھے خطاکار کو یہ موقع دیدیا  ۔حضور اور مدینے کے صدقے یہ نظر کرم ہوئی  اور شیبی صاحب بھی جب آئے تھے تو اللہ تعالی نے سعادت دی ۔میں خوف ڈر سا گیا  ہوں کہ جس دن اللہ تعالی نے نوٹیگیکشن کرایا ہئے ڈر سا گیا   ہوں اور میں چاہتا ہو ں کہ اللہ تعالی کوئی ایسے اسباب بنادے کہ میں ثابت قدم رہوں یہ موقع کسی کو نہ دو کہ اس دن کی مناسبت سے اور اس دن کی نسبت سے ، مجھے کسی غلط کام سے جوڑا جائے ۔

فیصل عزیز: مطلب یہ کہ آپ 12 ربیع الاول کی حیثیت سے گورنر بنے ، آپ کوئی ایسا کام  نہیں کرینگے جو آپ کی زات یا فیملی کی زات سے متعلق ہوں۔

کامران ٹیسوری: یہ میں آپ کو ان ائیر کہنا چاہتاہوں کہ اور میں نے کسی سے وعدہ بھی کیا ہے کہ میں انسان ہوں او ر خطائیں ہوتی ہیں ، بہت ساری ایسی خواہشات بھی ہوتی ہیں  کو انسان کرتا ہے اور منصب پر بیٹھ کر اور کوشش کرتا ہے لیکن یہ میرا اللہ جانتا ہے کہ جس دن میرا یہ نوٹیفیکیشن ہوا ہے میں نے عہد کیا ہے کہ جب تک اس منصب  پر فائز  ہوں اپنا ذاتی یا گھر کا کوئی کام نہیں کرونگا

فیصل عزیز: سنا یہ ہے کہ جب آپ گورنر بنے آپ خود گاڑی چلا رہے تھے والد صاحب ساتھ بیٹھے تھے اور پیچھے والدہ اور اہلیہ ،بچے بیٹھےتھے۔میں ہوں کامران ٹیسوری حلف لینے آیا ہوں۔

کامران ٹیسوری: مجھے کال آئی تھی ملٹری سیکرٹری کی ہم نے اسٹاف بھیجا ہوا ہے آپ 6 بجے آجائیں تو فیملی کلچر کی وجہ سے میں نے خود  گاڑی چلائی کیونکہ اسٹاف ہے ہمراہ سب  لوگ  نہیں بیٹھ سکتے تھے۔میں سوشل ورکر رہا ہوں کم عمری میں  تو مجھے جنرل مشرف نے دو مرتبہ بزنس مین اف سوشل ویلفئیر پر ایوارڈ دیا ہے اور بہت سے بڑے نامی گرامی برینڈ میری کمپنی کے اسپانسر رہ چکے  ہیں۔سارے اعزازات اسی نےملک نے دیے ہیں

فیصل عزیز: یہ بتائیں آپ  یہاں سے گئے  وی 8  میں اور بدین میں موٹر سائیکل چھوری کی ؟

کامران ٹیسوری:والد کے انکار کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا   نے مجھ پر  4 کیسز بنائے ۔

جمیل یوسف کے بیان  کے بعد ہائیکورٹ سے باعزت بری ہوا ۔ایف ائی آر میں پولیس مقابلہ ،موبائل چھیننے کا الزام تھا ۔

فیصل عزیز: سیاسی و سماجی اور ولینٹئیرز کے ساتھ  رہے کس کا رول ایسا  تھا کہ اپ نے یہ سفر طے کیا؟

کامران ٹیسوری: ایک نام آپ بھول گئے آصف علی زرداری ، محترمہ نے مجھے مکہ میں اپنا بھائی بنایا

جھے خوشی ہے کہ میرے بہت دوست ہیں اور مخالفت میں کم لوگ ہیں ، تو مجھے کبھی اثر نہیں ہوا ۔

فیصل عزیز : ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ ایم کیو ایم میں انٹر ہوئے انھی کے ساتھ واپس چلے گئے اور پھر بغیر فاروق ستار کے ایم کیو ایم میں انٹری اور مہینےسے کم وقت میں گورنر سندھ تعینات ہوگئے۔۔

کامران ٹیسوری: میرے بہت سے لوگوں سے اچھے تعلق ہیں ذاتی اور سیاسی ، اسی وجہ سے اظہار رائے اور اختلاف رائے ہوتا ہے  یہ جمہوریت کا حسن ہے 2018 سے فاروق بھائی کے ساتھ ہوں زیادہ تر لوگوں سے سیاسی راستے جدا  ہوتے ہیں ذاتی نہیں ،میری خواہش تھی کہ ساتھ پارٹی میں واپسی ہوں، مگر سوشل میڈیا سے ایسا لگا کہ میری وجہ سے اختلاف ہے ۔مگر فاروق ستار بھائی کے پاس کچھ ایسی چیزیں تھی جو رابطہ کمیٹی نہیں مان رہی تھی ۔

فیصل عزیز: بچپن کیسا گزرا ؟

گھر والے سارے بہت ساتھ ہیں ایک دوسرے سے اور اگر کبھی غلطی ہو جائے تو معافی مانگ لینی چاہیے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے

1972 میں میرے دادا نے ااقیل کریم ڈیڈی کے والد سے بلدنگ  خریدی تھی اسی مین سب رہتے تھے اور دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے  اقیل  کریم ڈیڈی  کے ساتھ 50 سال پرانا تعلق ہے کھارادار کے علاقے میں بچپن گزرا اور والدہ کی شکایت بھی تھی کہ یہ پتنگ بہت دیر تک اڑاتا ہے

فیصل عزیز: 23 سال کی عمر میں عہدیدار بن گئے ، اتحادی بھی ہیں ؟ اسحاق ڈار سے ملاقا ت ہوئی ؟

کامران ٹیسوری: وفاقی حکومت نے ڈالر اور معیشیت کے معاملے میں بہت تیزی سے کام کر رہے ہیں اسحاق ڈار کی کوشش ہے کہ جلد ڈالر نیچے لائے اور معیشیت کو ٹھیک کریں، ساتھ ساتھ سندھ گورنمنٹ نے صحت میں بہت کام کیا ہے ، تعریف تو بنتی ہے  اسی کے ساتھ ساتھ تنقید بھی کرونگا  کیونکہ میں وفاق کا نمائندہ ہو۔ سب سے رابطے میں ہوں جس کے پاس اختیار ہے لازمی کام کروانا ہے اور پھر لوگوں کو بتائینگے یہ کام کیا ہے ۔ کیونکہ اللہ نے 12 ربیع الاول والے دن منصب دیا ہے تو یہ تو میں آخرت اچھی کر لوں یہ خراب کر دوں۔آخرت میں سوال ہوگا اگر نہیں کر پایا تو عہدہ چھوڑ دونگا ۔

فیصل عزیز: آپ کھانے کے شوقین ہیں ؟

کامران ٹیسوری:اپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں ، کھلاتا بھی ہوں کسی دن آپ کو بھی دعوت دینگے ، ماہ رمضان میں خود ہی سب کچھ بناتا تھا ۔

اسی کے ساتھ ساتھ آپ کے چینل کے توسط سے کہنا چاہتا ہوں کہ سندھ میں سیلاب سے بڑی تباہی ہوئی ہئے آپ لوگ بھی اپنے حصے کا کچھ ان لوگوں کو دیدے۔۔۔۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ ترین

ویڈیو

Scroll to Top

ہر پاکستانی کی خبر

تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں۔